دنیا میں اخلاق کی کتابیں لاکھوں ہیں۔ منبروں سے انصاف کی صدائیں دی جاتی ہیں۔ اسکولوں میں "سچ بولو" لکھا ہے لیکن تاریخ کا سب سے پرانا قانون ایک ہی ہے۔
"جس کی لاٹھی، اس کی بھینس"
فرعون نے کہا "میں خدا ہوں"۔ کسی کی جرات نہ ہوئی کہ پوچھے کیوں؟ کیونکہ تخت اس کے پاس تھا۔
چنگیز خان آیا، شہر جلا دیے۔ کوئی انسانی حقوق کا بورڈ نہیں بنا۔ کیونکہ تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔
ہٹلر نے تقریر سے نہیں، فوج سے دنیا ہلا دی۔ 6 کروڑ لوگ مارے گئے۔ اور آج بھی کتابیں اسی کے نام پر بکتی ہیں۔ طاقت تھی تو تاریخ بھی اسی نے لکھی۔
نوآبادیاتی انگریز آئے، ہمارے وسائل لوٹے۔ قانون بھی بنایا، عدالت بھی لگائی، اور فیصلہ بھی خود کیا۔
طاقت ہو تو ظلم بھی "پالیسی" بن جاتا ہے۔
غریب عدالت کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے۔ فائلیں، وکیل، تاریخیں۔ 10 سال گزر جاتے ہیں۔
ادھر طاقتور ایک کال کرتا ہے۔ کیس ختم۔
بین الاقوامی دنیا میں بھی یہی ہے۔ ویٹو ہے تو جنگ جائز ہے۔ پیسہ ہے تو مارکیٹ آپ کی ہے۔
حق پر ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ حق کے پیچھے بازو ہونا چاہیے۔
اس لیے بزرگ سچ کہتے تھے:
"بَازو پر بھروسہ ہے تو انصاف مت مانگو،
پچھتاؤ گے اس دور میں زنجیر ہلا کر
یہاں کمزور کی چیخ کوئی نہیں سنتا
طاقت بولے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے"
آخر میں
کتابوں میں ہمیشہ اچھائی جیتتی ہے۔ کیونکہ وہ کتابیں کمزور لکھتے ہیں۔
دنیا میں ہمیشہ طاقت جیتتی ہے۔ کیونکہ دنیا طاقتور چلاتے ہیں۔
یہ ظلم ہے۔ لیکن یہی سچ ہے۔
#JisKiLathiUskiBhains #MightIsRight #UrduQuotes #UrduAdab #TalkhHaqeeqat #DeepLines #PowerAndJustice #ViralUrdu #LifeRealityQuotes #UrduThoughts #TruthOfLife #DeepUrdu
