ایک پوسٹ نظروں سے گزری...
لکھا تھا، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا گولڈ میڈلسٹ، BS Accounting and Finance کا ٹاپر، آج اینٹیں اٹھا رہا ہے، بیلچہ چلا رہا ہے۔
ویڈیو دیکھی، دل بیٹھ گیا۔ ایک لڑکا جس نے 4 سال لائبریری میں گزارے، جس نے ہر پیپر میں ٹاپ کیا، آج مزدوروں کے ساتھ دھوپ میں مٹی میں لت پت ہے۔ لوگوں نے کمنٹس میں واہ واہ کی، کسی نے نظام کو گالی دی،
کسی نے حکومت کو۔
لیکن میں نے سوچا، کیا قصور صرف نظام کا ہے؟
اس لڑکے نے 4 سال میں بیلنس شیٹ تو یاد کر لی، لیکن کیا اس نے کبھی ایک اصلی بیلنس شیٹ بنائی؟ فنانس کے فارمولے تو رٹ لیے، لیکن کیا کبھی TradingView کھول کر ایک چارٹ سمجھا؟ اکاؤنٹنگ کے اصول تو ازبر کر لیے، لیکن کیا QuickBooks, Excel Advanced, یا ایک Freelancing Profile بنانا سیکھا؟
نہیں۔
کیونکہ ہمیں بتایا ہی یہ گیا کہ ڈگری = نوکری۔
یہ 1990 نہیں ہے۔ یہ 2026 ہے۔ اب دنیا ڈگری نہیں، ہنر خریدتی ہے۔ تمہاری یونیورسٹی تمہیں نوکری نہیں دے گی، وہ صرف تمہیں میدان میں داخلے کا ٹکٹ دے گی۔ لڑنا تمہیں خود ہے۔
ایک کڑوا سچ سنو۔۔
آج اس ٹاپر کے ساتھ کھڑا ایک 19 سالہ لڑکا جس نے میٹرک کے بعد Amazon FBA یا Shopify یا Stock Trading یا Video Editing سیکھ لیا، وہ مہینے کا 2 لاکھ کما رہا ہے۔ اس کے پاس ڈگری نہیں، ہنر ہے۔
اور ہمارا گولڈ میڈلسٹ؟ اس کے پاس ڈگری ہے، ہنر نہیں۔
تو غریب کون ہوا؟
اپنی ڈگری کے ساتھ ایک ہنر کو جوڑ دو۔
ورنہ یاد رکھنا، کل تمہاری بھی تصویر وائرل ہو گی اور لوگ افسوس کا ایموجی بھیج کر آگے نکل جائیں گے۔
Degree vs Skills, Career Skills 2026, Employable Skills, Freelancing Pakistan, Education and Jobs
